
تمہیں معلوم تھا جاناں
Read Count : 145
Category : Diary/Journal
Sub Category : N/A
تمہیں معلوم تھا جاناںکہ میرے ہجر کو وصل کا کنارہ نہیں ملناگر جو گر پروں تو کسی مہربان ہاتھ کا
کسی محبت بھرے لمس کا
کسی دلفریب جواز کا
سہارا نہیں ملنا
پھر بھی عجب وہ شخص تھا صاحب
بڑے ہی ناز سے اس نے
الگ انداز سے اس نے
ہمی سے بے وفائی کی ۔
یہ دل جو شیشےسے نازک تھا
جفا سے توڑ ہی ڈالا
مگر ادائے عشق تو دیکھو
کہ ہر ٹکرے نے رو رو کر
اسی سے پھر وفا کر دی
اسے معلوم تھا جاناں
کہ ہم اہل محبت کی
ازل سے بات یہ بھی ہے
گر دل ٹوٹے تو پھر بھی ہم
عداوت ہم نہیں کرتے
شکایت ہم نہیں کرتے
ملامت ہم نہیں کرتے
مگر یہ بھی یاد تم رکھنا
کہ ہم اہل عشق ایسے ہیں
جان و دل کے نذرانے
گر مانگو تم جو فرصت سے
تو جان دے کر محبت میں
محبت مول لیتے ہیں
سنو گر جان لو تم یہ
سنو گر مان لو تم یہ
ہمیں اب بھی محبت ہے
کہ دل جب بھی دھڑکتا ہے
محبت سانس لیتی ہے
تمہارا نام لیتی ہے
چلو تم مان لو جاناں
کہ اس بے نام تعلق میں
ابھی کچھ رمق باقی ہے
تمہارے لوٹ آنے کی
ابھی اک آس باقی ہے
زرا سی راکھ باقی ہے
کہ اس راکھ سے جاناں
دھواں اب بھی اٹھتا ہے
تمہارے ساتھ کو جاناں
یہ دل اب بھی تڑپتا
تمہیں معلوم یہ بھی تھا
کہ دل بیمار کا مرحم
تمہارا لمس ہے جاناں
تو لوٹ آو
کہ یہ دل تمہارے بغیر
دھڑکنا چھوڑ بیٹھا ہے
یہ تعلق توڑ بیٹھا ہے
محبت چھوڑ بیٹھا ہے