
غزل فواد
Read Count : 194
Category : Books-Fiction
Sub Category : Historical Fiction
( نہ تھا )
اس کو کوئی یقین میرے پیار پر نہ تھا
سمجھا تھا جیسا میں نے ایسا مگر نہ تھا
دیکھا تجھے تو آوے کا آوا بگڑ گیا،
ظالم تیری نظر سے بچا کوئی گھر نہ تھا
یادوں کو اپنے دل سے میں کیسے نکالتا،
دل سے نکالنے کے لئے کوئی در نہ تھا
دل پہ اداسی چھاگئی پر کیا کرے فواد
اس شھرِ بے وفا میں کوئی چارہ گر نہ تھا